سلطان نورالدین زنگی عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے
اور نم آنکھوں سے فرمایا
میرے
ہوتے ہوئے میرے آقا میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کون ستا رہا ہے .آپ اس
خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھااور آج پھر چند
لمحوں پہلے انھیں آیا جس میں سرکار دو عالم نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا
کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں.
اب
سلطان کو قرار کہاں تھا،انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا
ارادہ فرمایا .اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام
کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا.












